ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ممکنہ معاہدہ آخری مراحل میں تھا، مگر اچانک پیش آنے والی رکاوٹوں کی وجہ سے مذاکرات ناکام ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہونے والی بات چیت دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ 47 سالوں کی سب سے اہم اور اعلیٰ سطح کی مذاکراتی کوشش تھی۔
انہوں نے بتایا کہ ایران نے نیک نیتی کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کیے اور کئی معاملات پر پیش رفت بھی ہوئی۔ تاہم جب معاہدہ طے ہونے کے قریب تھا تو امریکہ کی جانب سے سخت شرائط، مسلسل تبدیلیاں اور رکاوٹیں سامنے آئیں، جس کے باعث مذاکرات آگے نہ بڑھ سکے۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حالات کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ ناکامی نہ صرف خطے میں عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے اثرات محسوس کیے جا سکتے ہیں، خاص طور پر سیکیورٹی اور سفارتی تعلقات پر۔

