آسام حکومت کا اڈانی گروپ کو 12,500 کروڑ روپے ادائیگی کا ممکنہ معاہدہ

آسام حکومت کا اڈانی گروپ کو 12,500 کروڑ روپے ادائیگی کا ممکنہ معاہدہ

کے درمیان ایک ممکنہ معاہدے کی خبر سامنے آئی ہے جس کے تحت ریاست اضافی کوئلہ بجلی کے لیے بھی ادائیگی کرے گی، چاہے وہ اسے استعمال نہ کر سکے۔ رپورٹس کے مطابق یہ معاہدہ آنے والے پانچ سالوں میں تقریباً 12,500 کروڑ روپے تک جا سکتا ہے، جو ریاست کے لیے ایک بڑا مالی بوجھ بن سکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آسام حکومت نے 2030 سے مرحلہ وار 3,200 میگاواٹ کوئلہ بجلی خریدنے کا وعدہ کیا ہے۔ تاہم موجودہ طلب اور استعمال کو دیکھتے ہوئے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بجلی کا ایک بڑا حصہ استعمال نہیں ہو سکے گا، جس کے باوجود ادائیگی کرنا لازم ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ایسے معاہدے توانائی کے شعبے میں طویل مدتی منصوبہ بندی کا حصہ ہوتے ہیں، لیکن اگر طلب کا درست اندازہ نہ لگایا جائے تو یہ مالی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس معاملے پر سیاسی حلقوں اور عوام میں بحث جاری ہے اور شفافیت اور حکومتی فیصلوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *